*حقوقِ نسواں اسلام اور اہلِ مغرب کی نظر میں


*حقوقِ نسواں اسلام اور اہلِ مغرب کی نظر میں*

وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دَروں

شرف میں بڑھ کر ثریا سے مشت خاک اس کی

کہ ہر شرف ہے اسی دَرَج کا دُرِّ مکنوں


ارباب مکرم! عورت کتابِ تخلیق کا سنہری باب، گلستانِ وفا کا حسین پھول اور آسمانِ محبت کا تابندہ ستارہ ہے۔ عورت کو جس روپ میں دیکھو گے، وہ خلوص کا استعارہ، شفقت کا مینارہ نظر آئے گی۔ 

عورت کو بیٹی کے روپ میں دیکھو گے تو اس کی خدمت گزاری لاجواب،عورت کو بیوی کے روپ میں دیکھو گے تو اس کی اطاعت شعاری باکمال، عورت کو ماں کے روپ میں دیکھو گے تو اس کی مہر و وفا بے مثال نظر آئے گی۔

مگر افسوس کہ محبت و الفت کی اس پیکر کو تہذیبوں کے تصادم میں پاؤں کی جوتی سمجھا گیا۔ 

کہیں اس کے وجود کو ناپاک اور باعث شرم و عار سمجھا گیا تو کہیں اس کے بنیادی حقوق کو سلب کیا گیا۔

 کہیں اسے زندہ درگور کر کے اس سے جینے کا حق چھینا گیا تو کہیں اسے نَنْ بنا کر لطفِ حیات سے محروم زندگی گزارنے پہ مجبور کیا گیا، پھر عورت کی قسمت جاگی اور خالق کائنات کا رحیم و شفیق نبی مبعوث ہوا جس نے ((اِلْزَمْھَا فَإِنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ رِجْلَیْھَا)) کا نعرہ لگا کر عورت کو زمین سے اٹھایا اور اوج ثریا پہ پہنچا دیا۔

اربابِ گرامی! آج عورت کے جسم کے رسیا حقوق نسواں کا کھوکھلا نعرہ لگا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں کہ جو حقوق عورت کو مغرب نے دیے، اسلام میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ملتا۔ میں عقل و فکر کے ان اندھوں کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ عورت کو جو حقوق اسلام نے دیے، اہل مغرب تو اس کے تصور سے بھی عاری تھے، مثلاً :

• اسلام نے ﴿وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ﴾کے پیرائے میں دختر کشی کو جرم عظیم قرار دے کر عورت کو جینے کا حق دیا جبکہ مغربی فلاسفر کئی عرصے تک اسی بحث میں الجھے رہے کہ عورت انسان ہے یا محض روح۔

• اسلام نے ((مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ فَأَدَّ بَھُنَّ وَرَحِمَھُنَّ وَأَحْسَنَ إِلَیْھِنَّ فَلَہُ الْجَنَّۃُ)) کے ضمن میں عورت کو تعلیم کا حق دیا جبکہ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا کہتا ہے کہ قدیم یونانی تہذیب میں عورتیں تعلیم سے محروم تھیں۔ 

• اسلام نے ﴿وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَ٘اْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَؔ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً﴾ کے زمرے میں عورت کی عزت و آبرو کو محفوظ کیا جبکہ یورپی شہر اسپارٹا کا یہ قانون تھا کہ کمزور شوہروں کو اپنی کمسن بیویاں نوجوانوں سے بیاہ دینی چاہئیں تاکہ فوج میں قومی سپاہیوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔

• اسلام نے ﴿یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْ٘لُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ﴾ کا تقرر کر کے عورت کو وراثت کا حقدار ٹھہرایا جبکہ عیسائیت میں ایک عرصے تک مرد کو یہ حق حاصل رہا کہ وہ عورت کو وراثت سے محروم کر سکتا ہے۔

• اسلام نے ﴿وَقَ٘رْنَ فِیْ بُیُوْتِكُ٘نَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى﴾ کا حکم دے کر عورت کی آبرو کی حفاظت کی جبکہ مغرب نے آزادی کا نعرہ بلند کر کے عورت کو مالِ مفت بنایا تو امریکہ میں لاکھوں لڑکیاں بن بیاہی مائیں بن رہی ہیں۔

• ہاں ہاں! اسلام نے عورت کو مہر کا حق دیا: ﴿وَاٰتُوا النِّسَآءَؔ صَدُقٰ٘تِهِنَّ نِحْلَةً﴾.

• اسلام نے عورت کو تنقید و احتساب کا حق دیا: ﴿وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْ٘مَعْرُوْفِ وَیَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْؔكَرِ﴾.

• اسلام نے عورت کو نان و نفقہ کا حق دیا ہے: ﴿عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ ﴾.

• اسلام نے عورت کو نکاح کے سلسلے میں اپنی پسند بتانے کا حق دیا ہے: ((لَا یُنْکَحُ الْأَیِّمُ حَتّٰی تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتّٰی تُسْتَأَذَنَ)).

اس کے برعکس مغرب نے عورت کو کیا دیا۔۔۔؟! مادر پدر آزادی کے نام پر بے راہ روی...... معاشی استقلال کی آڑ میں ذہنی بے چینی.....خود کفیلی کے پردے میں خاندانی نظام کی تباہی.... من پسندی کے پس منظر میں طلاق کی شرح میں اضافہ..... میرا جسم میری مرضی کی اوٹ میں کھلی حرام کاری....

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا

قارئین محترم! اگر موم بتی مافیا اور دیسی لبرلز کی آنکھوں پہ اسلام دشمنی کی پٹی بندھی ہے تو انھیں مغربی مفکرین کی گواہیوں پر ہی غور کر لینا چاہیے۔ ’’ڈبلیو لائٹرر‘‘ ببانگ دہل کہتا ہے کہ عورت کو جو عزت و تکریم محمد نے دی، وہ مغربی معاشرے اور دوسرے مذاہب کبھی نہ دے سکے۔ 

’’ڈبلیو ڈبلیو کیش‘‘ سرعام اعتراف کرتا ہے کہ اسلام نے عورتوں کو پہلی بار انسانی حقوق دیے۔

 ’’ای بلائیڈن‘‘ برملا اقرار کرتا ہے کہ سچا اور اصلی اسلام جو محمد لے کر آئے، اس نے طبقۂ نسواں کو وہ حقوق دیے جو اس طبقے کو پوری انسانی تاریخ میں اس سے پہلے نصیب نہیں ہوئے تھے۔

ارباب علم و فضل! اسلام حقوق نسواں کا سب سے بڑا داعی ہے۔ اسلام عورت کو ہر وہ حق دیتا ہے جو اس کے لیے بہتر اور اس کی عظمت کی علامت ہو۔ جبکہ اہل مغرب عورت کو ہر اس کام کی طرف دھکیل رہے ہیں جو انھیں ہر محفل کی شمع اور ہر نظر کا نشانہ بنائے۔ جو اس کی فطرتی شرم و حیا کا جنازہ نکال کر اسے سرِبزم تماشہ بنائے، اس لیے عورت کی عافیت، طبقہ نسواں کا وقار اور بناتِ آدم کی عصمت و عفت کا تحفظ اسی میں ہے کہ وہ مغربی کھوکھلے نعروں کو چھوڑ کر اسلام کا جھنڈا تھام لیں۔