
(منقول)نائب رئیس جامعہ دارالعلوم کراچی، حضرت مولانا ڈاکٹر زبیر اشرف عثمانی صاحب مدظلہم العالی اس وقت براعظم افریقہ کے سفر پر ہیں۔وہاں کے ایک ملک "صومالی لینڈ" کے انتہائی حیران کن اور ایمان افروز حقائق ملاحظہ ہوں!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آجکل میں بر اعظم افریقہ کے ملک “صومالی لینڈ “ کے شھر “ھرگیزیا “ میں ھوں ۔ یھاں میری آمد کا مقصد اسلامک بینکنگ کی ایک کانفرنس میں شرکت کرنا تھا۔ یہ کانفرنس اپنے مقصد کے لحاظ سے ایک بھترین کانفرنس تھی ، اس میں مجھ کو بھی خطاب کی دعوت دی گئ تھی۔ اس میں پورے افریقہ کے اسلامی مالیاتی ادارے شریک تھے، افریقہ میں اسلامک بینکنگ اور تکافل پورے زوروشور سے جاری ھے، پچھلے تقریباً تین ھفتہ قبل میرا ایک پروگرام کے سلسلہ میں کینیا جا نا ھوا کینیا کے شھر نیروبی میں کئ اسلا مک بنک ھیں ۔ جن سے تفصیلی میٹنگز ھوئیں ۔ کینیا ایک کرسچین ملک ھے۔ اب میںرا صومالی لینڈ آنا ھوا۔ صومالی لینڈ اپنی بعض خصوصیات کے لحاظ سے دنیا کا ایک نمایاں ترین ملک ھے ، لیکن دنیا کے سامنے اس کی نمایاں خصوصیات سامنے نھیں آ سکیں۔ یہ صومالیہ کا ھی حصہ تھا لیکن 1992 میں اس نے صومالیہ سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اب یہ مکمل طور پر مسلمانوں کا ملک ھے ۔ اس کی پھلی خصوصیت: یہ ھے کہ یہ ملک سو فیصد مسلم آبادی پر مشتمل ھے۔ اس پورے ملک میں کوئ غیر مسلم اقلیت ھی نھیں۔ نہ عیسائ ،نہ یھودی اور نہ ھی ھندو اور نہ کسی اور غیر مسلم مذھب سے تعلق رکھنے والا کوئ باشندہ ھے دوسری بڑی خصوصیت: یہ ھے کہ پورے ملک میں کوئ سودی بنک یا سودی مالیا تی ادارہ موجود نھیں ھے سو فیصد اسلا می مالیاتی ادارے ھیں۔ کانفرنس مندوبین کے اعزاز گورنر اسٹیٹ بنک آف صومالی لینڈ نے ایک ھوٹل میں عشائیہ کا اھتمام کیا اس میں انھوں نے بڑی تفصیل سے بتایا کہ پورے ملک میں بینکنگ سو فیصد اسلامی ھے۔ تیسری خصوصیت: یہ ھے کہ پورے ملک میں سو فیصد خواتین حجاب کرتی ھیں ۔ بغیر حجا ب کے کوئ خاتون نھیں نکلتی ۔ میں نے بھی پورے سفر میں کوئ مقامی خاتون بغیر حجاب کے نھیں دیکھی۔ جس ھوٹل میں کانفرنس کے مندوبین کو ٹھرا گیا تھا وہ یھاں کا ایک بھت بڑا ھو ٹل تھا اس پورے ھوٹل میں جو خواتین اسٹاف تھا سب باپردہ تھا ۔ چوتھی خصوصیت: یہ ھے کہ پورے ملک میں ملاوٹ جعلسازی کا نام ونشان نھیں اور نہ ھی کم تولنے کا کوئ تصور ھے بلکہ وزن سے کچھ اوپر ھی دینے کا معمول ھے۔ پانچویں خصوصیت: یہ کہ ھر گھر کے تقریباً آدھے افراد حافظ قرآن ھیں۔ چھٹی خصوصیت: یہ ھے کہ بے انتھا امن وامان ھے آدھی رات کو بھی کوئ عورت نکلے تو اس کو کوئ کچھ نھیں کہ سکتا۔ ساتویں خصوصیت: مساجد نمازیوں سے بھری ھوتی ھیں یھاں تک کہ اکثر مساجد کے اندر پنج وقتہ نماز میں مسجد سے باھر صفیں بچھانی پڑتی ھیں۔ یھی حال فجر کی نماز میں ھوتا ھے۔ آٹھویں خصوصیت:جو طلبا کالج اور یونیورسٹی میں پڑھتے ھیں وہ مساجد سے اس طرح وابستہ ھیں کہ اپنی تعلیم کی تیاری مساجد میں بیٹھکر کرتے ھیں۔ اس طرح ان میں دینی شعور اور دینی تعلیم بھت مؤثر انداز میں گھر کر جاتی ھے۔ نویں خصوصیت: یہ ھے کہ عربی تعلیم لازمی ھے۔ اس طرح وہاں کے طلبا و طالبات عربی، انگلش،اور صومالی زبانوں سے واقف ھوتے ھیں۔ دسویں خصوصیت:جرائم نہ ھونے کے برابر ھیں گولڈ مارکیٹ اور کیش مارکیٹ جھاں کرنسی اور گولڈ کا کھلا کاروبار ھوتا ھے اور نوٹ اور کرنسی بالکل سامنے ڈھیر کی صورت میں کھلے رکھے ھوتے ھیں لیکن مجال ھے کوئ ان کو ھاتھ لگادے ۔ نماز کا وقت ھوتے ھی اسی طرح دوکانوں کو کھلا چھوڑ کر دوکاندار مسجد چلے جاتے ھیں کہ حیرت ھوتی ھے نہ کو ئ چوری اور نہھی کوئ ڈکیتی کا خطرہ۔
حقیقت یہ ھے کہ ان خصوصیات کو دیکھ کر ھم انتھائ متاثر ھوۓ ۔ اللہ تعالی ھمارے ملک کے حالات بھی بھتر فرماۓ۔
محمد زبیر عثمانی07-03-2024