جناب غامدی اور متوازی دین
از حضرت شیخ واصل واسطی صاحب حفظہ اللہ
1.جاوید احمد غامدی نے بہت عرصہ پہلے ایک مضمون "اسلام اور تصوف" کے نام تصوف کے بارے میں لکھاتھا ، پھر وہ انکی کتاب "برھان" کاحصہ بنا ، ہم نے اس وقت ہی اس کو پڑھا تھا مضمون کچھ زیادہ وزنی نہ تھا البتہ مضمون نگاری کی شوخیاں اس میں بہت نمایاں تھیں ، اس مضمون میں وہ ساری کمزوریاں موجود تھی ، جو جناب غامدی کی دیگر تحریروں میں موجود ھوتی ھیں ، اس مضمون میں سب بڑا گھپلا یہ ھوا ھے کہ تصوف کو متوازی دین ثابت کرنے کے لیے جناب نے متأخرين کے تفردات پر اس کی بنیاد رکھی ھے ،انکے متفقہ اورمسلمہ مسلک سے بالقصد اعراض کیاگیا ھے ، تصوف کے مراجع اصلیہ اور امھات کتبِ کو سرے سے ہاتھ ہی نہیں لگایا گیا ھے "قوت القلوب" سے بایزید بسطامی کی صرف ایک بات نقل کی ہے اور "الرسالہ" سے بالواسطہ ایک عبارت نقل کی ھے باقی ساری کتابیں متأخرين کی پیشِ نظر رکھی ھیں ، یعنی بالکل اُس طرح کا کارنامہ جناب غامدی نے انجام دیا ھے جیسے کوئی دیوبندی گروہ ، اوربریلوی گروہ یاپھراھل حدیث گروہ کے مصنفین کی کتابوں سے مسلکِ امام ابوحنیفہ اور مسلکِ آئمہ سنت کو اخذ کریں پھر اس بنیاد پراصل مذہب کو باطل قرار دیں ، ایسی تحقیقات سے بڑھکیں مارنے والے نوجوان تو متاثر ھوسکتے ھیں اھل علم کی اصطلاح اس کا نام پندار ھے یعنی کہ
شیخ پندارد کہ دارد حاصلے
حاصل این شیخ جز پندار نیست
اس مضمون کو بھی اھل علم اس قبیل کی چیز سمجھتے ھیں ، احباب اس نقد کا اندازہ اس بات سے کریں کہ جو کتابیں اھل تصوف کا متفق علیہ مسلک بیان کرتی ھیں ان کوشیخِ ناقد نے براہ راست ہاتھ ہی نہیں لگایا ھے مثلا "کتاب التعرف " از" ابوبکر کلابازی" المتوفی ۳۸۰ھ اور "الرسالة القشیریة" مرحبا از"ابوالقاسم قشیری" المتوفی ۴۶۵ھ ، وغیرہ باقی کتابوں کو تو جانے دیں ، جو اھل علم مذاہب کواپنے اصل منابع سے پڑھنے کے عادی ھیں ، وہ جانتے ھیں کہ صرف یہی ایک عیب اس مضمون کو اھل علم کی نظروں سے ساقط کرنے کے لیے کافی وشافی ھے ، لیکن بدقسمتی دیکھ لیں کہ ھمارے دور کے ایک صوفی جناب احمد جاوید صاحب اسے مضبوط تنقید قرار دے رہے ہیں اب کسے راہنمائی کرے کوئی ؟ ہم اس مختصر مضمون میں اس مضبوط تنقید کے چند مزید گھپلے بھی واضح کرینگے ان شاء اللہ تعالی یہاں صرف اتنی بات اور سمجھ لینے کی ہے کہ مکتب تصوف کے محقق جناب "عبدالکریم قشیری" کا کھنا ھے ، کہ تصوف کا کاروان گذرگیا ہے اب اس کا صرف گرد باقی ہے الفاظ یہ ھیں "ثم اعلموا رحمکم اللہ ان المحققین من ھذہ الطائفة انقرض اکثرھم ولم یبق فی زماننا من ھذہ الطایفة الاثرھم کما قیل:
اما الخیام فانھا کخیامھم
وأری نساء الحی غیرنساءھا"
(الرسالہ ص ۵۵) معلوم ھوا کہ جنابِ نے صرف گرد وغبار پربمباری کی ہے کیونکہ کاروان توبقولِ قشیری پہلے نکل گیا تھا
جاری ہے....
