جب کرنے کو کچھ خاص کام نہ تو ہر آدمی کا ہاتھ موبائل کی جانب ہی جاتا ایسے ہی اک روز ہوا اور بغیر کسی ضرورت کے موبائل چلانا شروع کیا تو سوچا کیوں نا آج تک فیس بک پر کی گی پوسٹس کو دیکھا جاۓ تو میں پہنچا 2013ء کی پہلی پوسٹ پر تو 2020ء تک کچھ پوسٹیں ایسی آئیں جن کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور کچھ ایسی تھیں جو ایسی لگیں کہ نا بھی ہوتی تو خیر تھی اور کچھ بالکل فضول لگیں
القصہ عرض یہ ہے کہ کیا ہم نے غور کیا کہ آج تک ہمارے کتنے کام ایسے ہیں جن پر ہم رشک کرسکیں جن کے متعلق یہ امید ہو کہ رب رحمان کی خوشنودی کا باعث بنیں گے
کیا افسوس کیا اور توبہ کی کسی ایسے کام سے جس میں الله اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نافرمانی ہو
ضرور سوچیں.........
سمیع اللہ ناصر