رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے اصحاب کے ساتھ بازار عکاظ تشریف لے جا رہے تھے کہ راستے میں نخلہ کے مقام پرآپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صبح کی نماز پڑھائی۔ اس وقت جنات کا ایک گروہ ادھر سے گزر رہا تھا۔ تلاوت کی آواز سن کر وہ ٹھہر گیا اور غور سے قرآن سنتا رہا۔ شدید متأثر ہوۓ. اوراپنی قوم میں جا کر اس واقعہ کے حوالے سے انہوں نے ایمان کی دعوت دی۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب جنات نے محسوس کیا کہ ان کی بعض آزادیوں پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ پہلے جنات کا معمول یہ تھا کہ وہ آسمان کی طرف پرواز کرتے اور کوشش کرتے تھے کہ عالم بالا کی خبریں معلوم کریں۔ فرشتوں کی باہم گفتگو سے کسی بات کی خبر ہوجاتی تو وہ اپنی طرف سے اضافوں کے ساتھ کاہنوں کو بتاتے تھے اور ان اطلاعات پر کاہنوں کا کاروبار چلتا تھا۔ اچانک انہیں محسوس ہوا کہ ہر طرف فرشتوں کے سخت پہرے لگ گئے ہیں اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے۔ وہ اوپر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو فرشتوں کے پہروں کی وجہ سے اوپر جانے سے روک دیے جاتے ہیں اور اگر چوری چھپے کسی طرف سے نکلنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ان پر شہابیے برستے ہیں۔ اس سے انھیں اندازہ ہوا کہ زمین میں ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے جس کے لیے یہ سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ چنانچہ اس کی تحقیق کے لیے زمین کے مشرق اور مغرب اور ہر طرف جنات کے وفود بھیجے گئے کہ وہ حقیقت کا سراغ لگانے کی کوشش کریں۔ اسی کوشش میں وہ مقامِ نخلہ پر بھی پہنچے اور وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے صحابہ کرام کے ساتھ صبح کی نماز جماعت سے ادا کر رہے تھے۔ جنات کے اس وفد نے جب قرآن کریم سنا تو قسمیں کھا کر کہنے لگے کہ واللہ یہی کلام ہے جو ہماری اور آسمانی خبروں کے درمیان میں حائل اور مانع بنا ہے۔
